وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر کے وفد کی ملاقات، کارگو سروسز کو مؤثر بنانے اور صنعتکاروں کو بہترین لاجسٹکس سہولیات کی فراہمی پر تبادلہ خیال

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مٹو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر وفد نے وزارتِ ریلوے میں اہم تزویراتی ملاقات کی ہے۔ ریلوے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وفد میں سابق ایم پی اے و سابق میئر گجرات حاجی ناصر محمود، سابق صدر گجرات چیمبر باؤ منیر احمد، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چوہدری عمران وڑائچ، عادل اشرف بھٹہ، عمران عباس، معصوم قمر، عبدالرحمن، عاقف سعید، عباس بٹ، قیصر لطیف، راجہ آصف، چیئرمین کمیٹی سرفراز نذر، سابق چیئرمین پولٹری ایسوسی ایشن حاجی زاہد محمود، حاجی جاوید اقبال اور چوہدری عدیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت کے فروغ، کارگو سروسز کو جدید بنیادوں پر مزید مؤثر بنانے، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو بہتر سہولیات کی فراہمی، لاجسٹکس کے نظام میں انقلابی بہتری اور گجرات سمیت مختلف صنعتی علاقوں کو ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ فعال انداز میں منسلک کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران چیمبر کے وفد نے وفاقی وزیر کو کاروباری برادری کو درپیش مختلف مسائل اور اہم تجاویز سے آگاہ کیا اور ریلوے کارگو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سامان کی بروقت ترسیل اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو قومی معیشت کا مؤثر اور تزویراتی ستون بنانے اور ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارگو آپریشنز کی استعداد بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ریلوے کو ملکی تجارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد، تیز رفتار اور کم لاگت ذریعہ بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ گجرات کی صنعتی برادری کی تمام قابلِ عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور پاکستان ریلوے کی کارکردگی، کارگو سہولیات اور تجارتی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام مقتدر اقدامات اٹھائے جائیں گے، جس پر وفد نے وزیر ریلوے کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کو سراہا۔

زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً چار ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ، حجم بائیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مقتدر اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں مجموعی طور پر 3.954 ارب ڈالر کا نمایاں اور تزویراتی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون دو ہزار پچیس کے اختتام پر زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا کل حجم 18.091 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں سے مرکزی بینک کے پاس 12.728 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.363 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جو اس وقت ڈھائی ماہ کی ملکی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ چوبیس جون دو ہزار چھبیس کو اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی ہفتے تک زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 22.045 ارب ڈالر کی مقتدر سطح تک پہنچ چکی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 16.527 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.517 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس مالیاتی سفر کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 3.799 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ہوا جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 154 ملین ڈالر تک بہتر ہوئے۔ مالیاتی ماہرین اور مرکزی بینک کے حکام کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں جو اب 2.91 ماہ کی ملکی درآمدات کی ضروریات کو باآسانی پورا کرنے کے لیے مؤثر اور کافی ہیں۔ اس مثبت تزویراتی ترقی سے ملکی کرنسی پر دباؤ میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

آن لائن حج رجسٹریشن نظام کی ریکارڈ پذیرائی، پہلے گیارہ دنوں میں دو لاکھ سے زائد عازمین نے گھر بیٹھے رجسٹریشن مکمل کر لی

محمود احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔

مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

بیجنگ: چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا؛ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق

محمود احمد, JULY 02,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

چینی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین اپنے نو تشکیل شدہ “تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم” کا دوسرا وزارتی اجلاس رواں سال خزاں میں بیجنگ میں منعقد کریں گے۔ سی جی ٹی این کے مطابق، چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ میکانزم دونوں اہم ترین معاشی شراکت داروں کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے اور تجارتی برآمدات و درآمدات کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں فریقین نے سال میں ایک سے دو بار وزارتی سطح پر ملاقاتیں کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید بتایا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے تجارتی سربراہ (ماروش شیفکووچ) کو اس دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے باضابطہ طور پر چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حہ یادونگ نے واضح کیا کہ حال ہی میں برسلز میں منعقد ہونے والے افتتاحی اجلاس میں دونوں اقتصادی قوتوں نے باہمی تجارتی حجم کو کم کرنے کے بجائے، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھا کر تجارتی توازن قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت ، گرین ٹرانزیشن (سبز توانائی کی منتقلی)، اور خدمات کی تجارت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی کے تحفظات کو بھی مرحلہ وار مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئے معاشی پوزیشننگ سے نہ صرف چینی اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت اور مستحکم محرک ملے گا۔

دوسری جانب، امریکا کی زرعی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چینی ترجمان نے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پاکٹ معاشی و تجارتی مذاکرات کے بعد چین اور امریکہ نے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص رہنما اہداف مقرر کیے ہیں۔ اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہوا ہے کہ متعلقہ زرعی مصنوعات کو مساوی بنیادوں پر محصولات میں کمی کے طے شدہ فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے کسان اور کاروباری برادری اس تجارتی سہولت کاری سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں۔

انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی مختلف اضلاع میں کامیاب کارروائیاں، اکتیس کلو گرام سے زائد منشیات برآمد، متعدد اسمگلر گرفتار

کاشف عباسی , JULY 02,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے عملے نے صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی خصوصی ہدایات کے تحت پشاور، نوشہرہ، خیبر، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں منشیات کے خلاف مقتدر تزویراتی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 31.493 کلو گرام منشیات برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کے ترجمان کے مطابق، گرفتار اسمگلروں کے خلاف متعلقہ ایکسائز تھانوں میں مقدمات درج کر کے مقتدر سطح پر مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے جی ٹی روڈ عجب باغ ایکسائز چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران موٹر سائیکل کے ذریعے بھاری مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 18,000 گرام چرس برآمد کی، جبکہ پشاور میں ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن اسکواڈ نے سروس روڈ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار سے 6,000 گرام چرس برآمد کر کے ملزم کو دھر لیا۔ اسی طرح تھانہ ایکسائز خیبر نے جمرود بائی پاس کے قریب انٹیلیجنس رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے ایک خاتون اسمگلر کے قبضے سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے حراست میں لے لیا، جبکہ حال ہی میں قائم ہونے والے مقتدر تھانہ ایکسائز ضلع کوہاٹ نے ایک کامیاب کارروائی میں اسمگلر شاکر اللہ سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کیا۔ مزید برآں، ہزارہ اسکواڈ B-7 نے حویلیاں انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم نوید کے قبضے سے 293 گرام فائن کوالٹی ہیروئن برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مقتدر حکام نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور بین الاضلاعی اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی غفلت یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔

شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی تصدیق

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔

اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مسافر نجی پرواز سے باکو جا رہے تھے، اٹلی کے غیر قانونی روٹ کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا معاہدہ ہوا تھا؛ ویزے اور ڈیجیٹل شواہد برآمد

محمود احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کی ایک منظم اور تزویراتی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کے دو بیٹوں کو مشکوک پائے جانے پر پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ تینوں مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز پی اے-468 کے ذریعے لاہور سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ تاہم، امیگریشن کلیئرنس کے عمل کے دوران ان کی مشکوک صورتحال اور سفری دستاویزات پر شبہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر سیکنڈری ویری فیکیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تلاشی اور ابتدائی تزویراتی تفتیش کے دوران مسافروں کے قبضے سے البانیہ کے ویزے اور سربیا کے غیر قانونی روٹ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے، جبکہ ان کے موبائل فونز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران مشتبہ بین الاقوامی ٹریول ایجنٹس کے ساتھ رابطوں اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ایک انسانی سمگلر (ایجنٹ) نے انہیں سنہری مستقبل کے جھانسے میں رکھ کر غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے لیے سربیا اور آذربائیجان کا ٹرانزٹ روٹ تیار کیا تھا۔ اس خطرناک مقصد کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا بھاری مالی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے چوتیس لاکھ روپے فی مسافر ایجنٹ کو پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مزید تادیبی قانونی کارروائی اور تفتیش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کا اعادہ ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث ملک بھر میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے مقتدر مون سون صورتحال کے تحت ملک گیر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این آئی ایچ کے حکام کے مطابق، مون سون کی حالیہ طوفانی بارشیں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی خطرناک وباؤں کے اچانک پھوٹنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مختلف مقامات پر کھڑا پانی مچھروں کی تیز رفتار افزائش کا باعث بنتا ہے جس سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی میں سیلابی آلودگی شامل ہونے سے ہیضہ اور دیگر آنتوں کے جان لیوا امراض پھیل سکتے ہیں۔

ادارے نے تزویراتی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی گرنے، کچی دیواروں اور بوسیدہ چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیلابی پانی کے طویل عرصے تک جمع رہنے کے باعث لیپٹوسپائروسس سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کے پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ این آئی ایچ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی سنیک وینم (سانپ کے کاٹنے کی ویکسین) کے وافر ذخائر کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

وفاقی ادارے کی جانب سے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مچھروں کی افزائش کے خاتمے کے لیے مچھر مار سپرے مہمات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں وبائی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس مقتدر موقع پر عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے مکمل دور رہیں، بچوں کو گندے نالوں، نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی میں جانے سے سختی سے روکیں، اور تیز ہواؤں یا بارش کے دوران کمزور دیواروں، پرانی عمارتوں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے بالکل گریز کریں۔ این آئی ایچ کے حکام کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری رپورٹنگ اور قومی سطح پر نگرانی کے تزویراتی نظام کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی وبائی صورتحال پر فوری قابو پایا جا سکے۔

پاکستان کی تاریخ کا بڑا توسیعی منصوبہ؛ مالی سال 27-2026 میں پندرہ ہزار سے زائد دیہات کی برق کاری اور سولہ لاکھ نئے کنکشنز کا ہدف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک بڑھانے کے لیے پندرہ ہزار تین سو ستائیس (15,327) دیہات کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے اور سولہ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو انچاس (1,689,849) نئے صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کا ایک مقتدر تزویراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت دیہی علاقوں تک بجلی کی پائیدار رسائی اور صارفین کی مجموعی تعداد میں ریکارڈ اضافہ تقسیمی شعبے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ’ویلتھ پاکستان‘ کو دستیاب پاور ڈویژن کی ایک باضابطہ دستاویز کے مطابق، یہ خطیر سرمایہ کاری اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جس کا تعلق بجلی تک رسائی رکھنے والی ملکی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ان مقتدر اقدامات سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور وولٹیج کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

دستاویز کے تزویراتی متن کے مطابق، دیہات کو بجلی فراہم کرنے کی اس مہم میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو سب سے بڑا ہدف سونپا گیا ہے، جس کے تحت مالی سال کے دوران آٹھ ہزار آٹھ سو چھہتر (8,876) دیہات کو بجلی سے منسلک کیا جائے گا۔ دیگر کمپنیوں کے اہداف درج ذیل جدول میں تفصیلاً دیکھے جا سکتے ہیں:

دستاویز کے مطابق، ملک کے مجموعی تقسیمی نظام کو تزویراتی طور پر مزید لچکدار اور مضبوط بنانے کے لیے 132 کے وی کی 799.5 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 132 کے وی نظام میں 2 ہزار 87 ایم وی اے کی اضافی ٹرانسفارمر استعداد شامل کی جائے گی۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 11 کے وی نظام میں بھی 1 ہزار 321.15 ایم وی اے کی اضافی استعداد پیدا کی جائے گی، جبکہ ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن فیڈرز کو بہتر بنانے کے لیے 11 کے وی کی 4 ہزار 134 کلومیٹر اور 400 وولٹ کی 1 ہزار 742 کلومیٹر طویل نئی بجلی کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعی منصوبہ اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ایک جانب بڑے شہروں میں صارفین کی صنعتی و خانگی مانگ کو پورا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں تک بجلی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے جہاں اب تک یہ بنیادی سہولت محدود یا یکسر ناپید تھی۔

عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج؛ ملزم چودہ سال قید کاٹ کر اور صدارتی معافی کے بعد رہا ہو چکا، سزا میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، ریمارکس

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملک کا آئین صدرِ مملکت کو کسی بھی ملزم کی سزا میں کمی یا مکمل معافی دینے کا مقتدر اختیار دیتا ہے، اور جب یہ آئینی اختیار ایک بار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں دوبارہ اضافے کے لیے انتہائی ٹھوس اور مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق دائر اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم اپنی قانونی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ جیل رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم نے چودہ (14) سال قید کاٹنے کے بعد باقی ماندہ سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے چودہ سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے کہ عدالت کے علم اور سابقہ فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے جیل میں کم از کم سترہ (17) سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس اہم قانونی سوال کا گہرا جائزہ کسی دوسرے مناسب اور متعلقہ مقدمے میں لیا جائے گا۔

دورانِ سماعت مقتدر عدالت نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے ایک بار فیصلہ دیا اور اس فیصلے پر باقاعدہ عملدرآمد بھی ہو چکا، اب اتنے عرصے بعد سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط ترین قانونی وجہ پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور اس مخصوص مقدمے میں یہ اختیار قانونی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا مکمل ہونے کے بعد بھی اس میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی سزا بڑھانے کی اپیل کو خارج کر دیا۔

اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی

کاشف عباسی , JULY 02,026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

اسرائیلی بربریت پر مجرمانہ خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر خالصتاً مفاد پرستی پر مبنی بھارتی مودی حکومت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عالمی سطح پر ایک بار پھر بری طرح عیاں ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملے سے محض دو روز قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا ایک مقتدر دورہ کیا اور پھر مابعد جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی؛ تہران پر حملوں کے دوران بھارت کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج اپنے توانائی و تجارتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے دوبارہ ایران سے عارضی قربت اختیار کر رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں نریندر مودی نے علاقائی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر منافقانہ زور دیا ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی جیسے اہم نکات پہلے ہی حالیہ ’ایران امریکا چودہ (14) نکاتی معاہدے‘ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ اس گفتگو میں مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی اور تجارتی آزادی کے تحفظ کو عالمی و بھارتی مفاد قرار دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی و دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی پر بار بار زور دینا درحقیقت ایران کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حمایت نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً بھارتی تجارت، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی بلا تعطل رسد اور اپنے معاشی مفادات کا تزویراتی تحفظ ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری یکسر ترک کر چکا تھا، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارت نے عالمی اصولوں کے برعکس ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح الفاظ میں کوئی مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مودی سرکار نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ معتبر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، دورانِ جنگ سفارتی میدان میں مکمل خاموشی اور جنگ بندی کے فوری بعد ایران سے دوبارہ تیل کی خاطر دوستی کا راگ الاپنا مودی حکومت کی موقع پرستی، تضاد اور بدترین خارجہ منافقت کی واضح علامت ہے۔

ایکواڈور کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ

محمود احمد, JULY 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایکواڈور کی فٹبال تاریخ میں سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے والے چھتیس سالہ مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا نے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس سے اپنی ٹیم کے باہر ہونے کے فوری بعد انٹرنیشنل فٹبال سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، وہ ٹورنامنٹ سے قبل ہی یہ تزویراتی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ایکواڈور کی اگلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اینر ویلنسیا نے میکسیکو سٹی میں صحافیوں سے انتہائی جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ کھیل چکے ہیں؛ انہوں نے انتہائی اداس دل کے ساتھ تمام ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو الوداع کہا، کیونکہ وہ ایکواڈور کی جرسی میں اپنی رخصتی اس شکست خوردہ انداز میں نہیں چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے ایک سنسنی خیز اور آخری میچ میں جرمنی جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف تھرٹی ٹو (32) میں جگہ بنانے والی ایکواڈور کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ میں میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے میں دو (0-2) کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، جو ویلنسیا کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن جیسے مقتدر انگلش کلبز کے سابق فارورڈ نے سال دو ہزار بارہ میں اپنے انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے ایکواڈور کے لیے اب تک ریکارڈ ایک سو نو (109) میچوں میں انچاس (49) شاندار گول کیے۔ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ میکسیکو کے مقتدر کلب پاچوکا کے ساتھ اپنے کلب کیریئر کو باقاعدہ جاری رکھیں گے، جہاں ان کا پیشہ ورانہ معاہدہ دسمبر دو ہزار ستائیس تک برقرار ہے۔