انڈیا کے یومِ آزادی پر سوشل میڈیا پوسٹ کا معاملہ: ضلع مہمند میں پولیس کی کارروائی، دونوں ملزمان گرفتار کر کے جیل منتقل

محمود احمد, August 19,2026

مہمند/پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان کے ضلع مہمند میں پولیس نے انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر سوشل میڈیا پر انڈین پرچم کی تصاویر اور “جے ہند” کے الفاظ شیئر کرنے پر دو افراد کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ایف آئی آرز کے مطابق دونوں ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123 اے اور 153 اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ دفعات ریاست کی خودمختاری کی مخالفت کرنے، قومی وقار کو مجروح کرنے اور عوام میں اشتعال پھیلانے کے جرائم سے متعلق ہیں۔

ضلع مہمند کے علاقے غلنئی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) مراد خان نے اس معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ کوز گنداؤ اور کٹارکلے کے علاقوں کے رہائشی ان دونوں افراد نے 15 اگست کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انڈیا کی یومِ آزادی کی مناسبت سے انڈین جھنڈے کی تصویر اور “جے ہند” کا نعرہ پوسٹ کیا تھا۔ اس پر پولیس نے فوری اقدام کرتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا۔

ایس ایچ او مراد خان نے مزید بتایا کہ 15 اگست کو کوز گنداؤ کے رہائشی شخص کو گرفتاری کے بعد مقامی عدالت کے سامنے پیش کر کے ایک دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے پیر کے روز انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر مردان جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اسی طرح کے دوسرے مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم کو بھی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایران کی متحدہ عرب امارات پر میزائل حملوں کے الزامات کی تردید، یو اے ای کا تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 19,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے ان بیانات اور الزامات کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یو اے ای کی سرزمین پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائے جانے والے یہ تمام الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور علاقے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب، ان الزامات اور مبینہ حملوں کے فوری ردِعمل میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی، معاشی اور مالیاتی لین دین کو اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس فیصلے سے متعلق تمام متعلقہ بینکنگ، تجارتی اور مالیاتی اداروں کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سالہا سال سے قائم اربوں ڈالر کے تجارتی تعلقات، کاروباری ساہوکاری اور مالیاتی روابط شدید متاثر ہوں گے، جس سے پورے خلیجی خطے کی معاشی صورتحال، تجارتی نقل و حمل اور سفارتی تعلقات پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا لیبیا کے زیرِ قیادت سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کے لیے حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 19,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے اندر پائیدار امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی یکجہتی کے لیے مسلسل مذاکرات، حقیقی یکجہتی اور قومی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع، لیبیا کے اپنے زیرِ قیادت اور ان کی اپنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور آگے بڑھانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے لیبیا کے حوالے سے منعقدہ اہم بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے لیبیا کے سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سفیر عاصم نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے جاری اس سیاسی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے لیبیا کے تمام اندرونی اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان نے یو این ایس ایم آئی ایل کے سیاسی روڈ میپ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کے چیئرپرسن کی تقرری کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے اختتام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس گفتگو کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات جلد ہی ادارہ جاتی یکجہتی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی شکل اختیار کریں گی۔

امورِ سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے فوجی و سکیورٹی اداروں کے درمیان قائم ہونے والے رابطوں، بالخصوص فائیو پلس فائیو جوائنٹ ملٹری کمیشن کے ذریعے ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر متحد اور ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کرنے والے سکیورٹی اداروں کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں 2026ء کے یونیفائیڈ اسپینڈنگ فریم ورک کے ذریعے مالیاتی ہم آہنگی میں سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور ملکی سطح پر اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کی تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے اندر عدالتی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم نے کہا کہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور عدالتی شعبوں میں متوازن پیش رفت ہی قومی مفاہمت اور ایک مضبوط و متحد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، جو لیبیا کے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان تمام مقاصد اور کوششوں کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلسل اور مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم دہرايا۔

پنجاب اور ملکی سطح پر 10 لاکھ نوجوانوں کو متحرک کرنے کا منصوبہ: 9 نومبر کو بڑا افتتاح

منصور احمد, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث قومی ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ماضی میں مختلف منصوبوں و اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کر سکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک تاریخی اور منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایک بڑا قومی پروگرام تیار کر رہی ہے جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے تعلیمی اور صحتی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف خود اس کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے اہم ترین سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے دائرے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ کرنا، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے خطرناک مسائل پر قابو پانا بھی اس پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو ہمارے انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور لمحہ فکریہ چیلنج ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دس لاکھ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں، محلو ں اور برادریوں میں جا کر نہ صرف اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں گے بلکہ انہیں تعلیم کی طرف لانے، صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینے، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پل کا کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اتنی بڑی طاقت کو قومی تعمیر کے عمل میں فعال شراکت دار بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اپنے خطاب میں معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف عارضی معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ سال 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر یعنی ون ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل رہا، پاکستان نے تیز رفتار ترقی کی۔ سن 2013ء میں ملک کو درپیش شدید توانائی بحران اور دہشت گردی کے باوجود 2017ء تک قومی بجلی کی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی جس سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا۔ تاہم 2018ء کی سیاسی تبدیلی سے ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے شراکتی ماڈل کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک کے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قومی یکجہتی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں جنگ بندی کے لیے تعمیمی سفارتی کردار ادا کیا جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر قائم کیا۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ دفاع اور سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ہمیں “معرکہ حق” کی کامیابی کو “معرکہ ترقی” میں تبدیل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک میں سیاسی و سماجی استحکام اور امن کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اندرونی انتشار کا شکار کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔

علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شاہین کی مانند بلند ہمت، خوددار، جرات مند اور علم و عمل کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، اور انہیں اپنی اس قوت سے پاکستان کو دوبارہ سائنسی و فکری قیادت کی اس منزل پر پہنچانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا طرہ امتیاز تھی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر ہر قسم کی سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے تاکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوان صرف ایک مشترکہ قومی شناخت یعنی “پاکستانی” ہونے کے ناطے متحد ہو کر ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔

گوگل نے پاکستان میں دفتر قائم کر دیا، کروم بکس برآمد کرنے کا بھی منصوبہ: وزیراعظم شہباز شریف سے گوگل وفد کی ملاقات

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “گوگل” پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسعت دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

وزیرِ اعظم نے وفد کو حکومت کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے دونوں کے درمیان شراکت داری کو نئی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ اور نٹالی بیکر نے مشترکہ طور پر پاکستان میں گوگل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر قائم کردہ کروم بک اسمبلی لائن کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے اور یہاں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کی باصلاحیت یوتھ کے لیے آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گیمنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں: قانون دان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ، تعلیمی و تحقیقی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت

روزینہ اسماعیل, August 18,2026

گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان ٹم کین نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں یونیورسٹی کے سینئر افسران نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ اس دورے کے دوران آسٹریلوی ہائی کمشنر کے پولیٹکل سیکرٹری جیگر کونیدارس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ہائی کمشنر نے جامعہ کے انتظامی اور تدریسی حکام سے اہم ملاقات کی، جس میں یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و تحقیقی اقدامات، مستقبل کے منصوبوں اور آسٹریلوی جامعات کے ساتھ اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران یونیورسٹی کے نمائندوں نے بتایا کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اس وقت 10 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جہاں انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور مختلف ڈپلومہ کورسز کروائے جا رہے ہیں۔ جامعہ کی جانب سے آسٹریلوی حکومت کو ماؤنٹین ریسرچ، اکیڈمیا، ماؤنٹین سپورٹس، جدید ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اور سکالرشپس میں تعاون کی سفارشات پیش کی گئیں۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین نے اعلیٰ تعلیم، ووکیشنل ایجوکیشن، زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں جامعہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس بار سکالرشپ اور ایوارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو ان سکالرشپس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ ہائی کمشنر نے یونیورسٹی کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ آسٹریلیا پاکستان کے زرعی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر معزز مہمان کو یادگاری کتاب پیش کی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس معمول کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد بدھ، 19 اگست کی دوپہر تک ملتوی کر دیا گیا۔

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

اجلاس کے دوران ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرِ صدارت ہوئی۔ معمول کے ایجنڈے پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مختلف امور ایوان کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے آئندہ نشست کے لیے مقررہ وقت کا اعلان کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کا دوبارہ انعقاد بدھ، 19 اگست 2026ء کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا، جہاں ایوان کے معمول کے پارلیمانی امور اور دیگر اہم معاملات پر کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر 18 اگست 2026ء کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے اختتام اور اجلاس کے اگلے روز تک ملتوی کیے جانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق معمول کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس بدھ کی دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کیا۔

ماخذ: قومی اسمبلی کی کارروائی، اے پی پی/اردو پوائنٹ

سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: زیارت، ہرنائی اور سوراب میں 9 دہشت گرد ہلاک

منصور احمد, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران زیارت، ہرنائی اور سوراب میں 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو زیارت اور ہرنائی کے درمیانی پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس اطلاع پر ایک بڑا آپریشن کیا گیا جس میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا محاصرہ کر کے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے اور ان کا خفیہ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

ایک اور کارروائی میں ضلع سوراب کے علاقے حاجیکہ گاؤں میں سکیورٹی فورسز نے دشت کٹائی اور حاجیکہ کے درمیان ناکہ بندی کر کے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ اس کامیاب آپریشن کے دوران مزید ایک دہشت گرد ہلاک ہوا۔ مارے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، میگزین، دستی بم، واکی ٹاکی، موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام تک یہ بلاتعطل کارروائیاں جاری رہیں گی۔

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے یوتھ کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی پر زور

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ملک کے طول و عرض، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید فنی ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ بین الوزارتی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ہنر مند افرادی قوت کو اندرون و بیرونِ ملک صنعتی اور کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیوٹک اور سمیڈا میں بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں میں اس پالیسی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں “یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز” قائم کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کو کیریئر کونسلنگ اور ہنرمندی کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ تیز، وزارتِ صحت کے ملازمین اور 12 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے ٹیسٹ لازمی قرار

روزینہ اسماعیل, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد اور وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا بریفنگ کے دوران خود بھی اپنا ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ منفی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیسٹ نہ کروانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ تمام وفاقی وزارتوں کو بھی مراسلے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وزراء سمیت تمام ملازمین کی سکریننگ یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں سکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں اور نجی ہسپتالوں کو بھی سکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے پر یہ بیماری جگر کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد، گلگت بلتستان کے رہائشیوں اور آئندہ تین ماہ تک تمام پروازوں سے آنے والے مسافروں کو بھی اس سکریننگ کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق سکریننگ کا پورا ڈیٹا تیار کرنے کے لیے نظام کو نادرا اور مردم شماری کے سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی کارڈ کے ریکارڈ سے سکریننگ کو جوڑنے اور بیرونِ ملک سفر سے قبل اسے لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ پنجاب سے ڈیٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ابھی مکمل اعداد و شمار موصول نہیں ہوئے اور وہ اس سلسلے میں خود وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔ وفاقی وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔

بھارتی وزیرِ داخلہ کے الزامات بے بنیاد، بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی برآمد کر رہا ہے: عزیز احمد اعوان

منصور احمد, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان نے بھارتی وزیرِ داخلہ کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے ہیں لیکن آج تک اپنے کسی ایک بھی دعوے کا کوئی ثبوت عالمی برادری کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔

عزیز احمد اعوان نے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارتی ایجنٹ بلوچستان میں کیا کر رہا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا امن تباہ کرنے اور وہاں دہشت گردی کا جال پھیلانے میں براہِ راست بھارت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِ داخلہ کے تازہ ترین الزامات پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب خود بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرنے اور عالمی سطح پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر نے مزید کہا کہ مودی سرکار پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی اپنی بدترین شکست کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر جھوٹے الزامات کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ معرکہِ حق میں بھارت کا کیا حشر ہوا تھا اور اب وہ جھوٹی ڈاکومنٹریز بنا کر اپنی تاریخی عزیمت اور ناکامی کو نہیں چھپا سکتا۔ بھارت کے یہ بے بنیاد الزامات عالمی برادری کی توجہ اس کی اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے ہرگز نہیں ہٹا سکتے۔

عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر علیمہ خان کا ردِعمل، انصاف کی فراہمی پر سپریم کورٹ اور عوام کا شکریہ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور مکمل طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے جذبات اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس انسانی فیصلے پر عدلیہ کے ججز اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر بے حد خوش ہیں، ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، لیکن بالکل اسی مایوسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انصاف کا راستہ کھولا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی گفتگو اور میڈیا ٹاک پر عائد پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گی، اس لیے انہوں نے تفصیلی گفتگو سے معذرت کی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے باقاعدہ یقین دہانی کروائی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے بعد پارٹی کی جانب سے ہسپتال کے باہر کسی قسم کا احتجاج، اجتماع یا ہلڑ بازی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالتی احکامات و فراہم کردہ یقین دہانی کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

سینیگال کے لیے نیا قرض پروگرام: آئی ایم ایف کی ٹیم تکنیکی مذاکرات کے لیے 19 اگست کو ڈکار پہنچے گی

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ فنڈ کا وفد 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا اہم دورہ کرے گا۔ اس دو ہفتہ وار دورے کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت مجوزہ پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور تکنیکی امور پر سینیگالی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف کی مکمل ٹیم کا یہ دورہ سینیگال کے ساتھ نئے معاشی پروگرام کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ سینیگال کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دورہ ملکی حکام کی آمادگی کے بعد ممکن ہوا ہے۔

یہ مذاکرات سال 2024ء میں سینیگال کے سابقہ حکومت کی جانب سے قومی قرضوں سے متعلق کی جانے والی غلط رپورٹنگ اور غلط اعداد و شمار کے معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ اس مالیاتی بے ضابطگی کے باعث آئی ایم ایف نے سینیگال کا سابقہ مالیاتی پروگرام معطل کر دیا تھا۔ اب نئے جائزے اور اصلاحاتی فریم ورک کے بعد سینیگال کے لیے نئے قرض پروگرام کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

مسلم دنیا کو دوبارہ علم و تحقیق کے میدان میں اپنا تاریخی کردار بحال کرنا ہوگا: احسن اقبال

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے ایک دور میں علم، تحقیق اور سائنسی جستجو میں پوری دنیا کی قیادت کی ہے، لیکن جو تہذیب کسی زمانے میں علمی دنیا کی رہنما تھی وہ آج دوسروں کی محتاج نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ منصوبہ بندی میں منعقدہ محفلِ میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے تاریخی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بغداد اور اندلس کے عظیم علمی مراکز، رصد گاہوں اور مسلم سائنس دانوں نے فلکیات، طب، ریاضی، اور کیمیا کے شعبوں میں جدید تحقیق کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی یہ سائنسی و علمی ترقی کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی اس بنیادی تعلیم اور دعوت سے جڑا ہوا تھا جس میں انسان کو کائنات میں مشاہدہ کرنے، عقل کے استعمال اور غور و فکر کی بار بار ہدایت کی گئی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے موجودہ دور کی جدید سائنسی ایجادات اور جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی انسانی کوششیں کائنات کے اسرار جاننے کی سائنسی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم تحقیق و دریافت کے میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کے کارناموں پر صرف فخر کرنے کے بجائے نئی نسل میں سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور تخلیقی سوچ بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکیہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے: صدر رجب طیب اردوان

محمود احمد, August 18,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرانے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں میں ترکیہ کی مکمل حمایت اور تعاون فراہم کرنے کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ پہلے بھی علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے اور اب بھی دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے سہولت کار بن سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات انتہائی سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکومتوں کے مختلف اداروں کے درمیان سفارتی رابطے پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ہیں، تاہم تاحال دونوں فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے یا باہمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، دریائے سندھ میں نچلے درجے کا سیلاب

منصور احمد, August 18,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

پنجاب کے اکثر دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج معمول کے مطابق ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح بالکل نارمل ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں بھی فی الحال کوئی طغیانی نہیں ہے۔ تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ، تونسہ اور چشمہ کے مقام پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 33 ہزار کیوسک، چشمہ کے مقام پر 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک اور تونسہ کے مقام پر 3 لاکھ 38 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضلع نارووال کے نالہ بسنتر، نالہ ایک اور نالہ پلکھو میں بھی نچلے درجے کی طغیانی کی صورتحال ہے۔ ڈیموں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ چھٹا سپیل 21 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاکڑ نے شہریوں سے موسم اور پانی کی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب سیر و تفریح سے مکمل طور پر گریز کریں اور اپنے بچوں کو ندی نالوں یا دریاؤں میں نہانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کی ملاقات، آئندہ حج کے بہترین انتظامات کی ہدایت

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامی امور اور وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی پیش رفت اور عازمینِ حج کو دی جانے والی سہولیات کے فریم ورک سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئندہ حج کے موقع پر تمام پاکستانی عازمین کو بہترین اور معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتِ مذہبی امور کو تاکید کی کہ حج آپریشنز سے متعلق تمام ضروری اور انتظامی اقدامات کو وقت سے پہلے اور بااحسن طریقہ مکمل کیا جائے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اقوام متحدہ کا انکشاف: سال 2025 میں 350 امدادی کارکن ہلاک، غزہ اور سوڈان سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار

محمود احمد, August 18,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر (او سی ایچ اے) نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی مجموعی تعداد 350 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 186 امدادی اہلکار غزہ اور 71 سوڈان میں ہلاک ہوئے۔ ‘او سی ایچ اے’ کے بیان کے مطابق سال 2025ء امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کا ایک اور انتہائی المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا، جس کے دوران کل 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا کا شکار ہوئے۔

تحقیقاتی ادارے “ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز” کے ڈیٹا بیس کے مطابق یہ تعداد سال 2024ء میں ہلاک ہونے والے 377 امدادی کارکنوں کے مقابلے میں معمولی سی کم ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2026ء کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں مزید 82 امدادی کارکن قتل، 97 شدید زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں اور خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ کم لاگت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ ایک انتہائی سنگین اور نیا خطرہ بن چکا ہے، جس سے مختلف فریقین کو مہلک طاقت کے استعمال کا موقع مل رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سوڈان میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والی عام شہریوں کی 80 فیصد اموات انہی ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر مقامی منڈیوں اور طبی مراکزی کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ صرف تین سالوں کے دوران 1000 سے زائد امدادی کارکنان کا مارا جانا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محض مذمت کر دینے سے انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ نہیں ملے گا، بلکہ عالمی ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب یقینی بنانا ہوگا۔ ٹام فلیچر نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے، جنگ کے بنیادی انسانی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: کم جونگ اُن نے میرے رابطوں کا جواب دے دیا ہے

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے حالیہ رابطوں کا مثبت جواب دے دیا ہے۔ یہ اہم بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کے حکم کے ٹھیک ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ پیانگ یانگ نے ان کی سفارتی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ کم جونگ اُن کا جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس جواب کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو انتہائی مہنگی اور شمالی کوریا کے لیے معاندانہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرِ دفاع کو ان میں نمایاں کمی کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی مہم میں ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، اسی لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ میں شمالی کورین مشن نے فی الحال اس پر باقاعدہ تبصرے سے معذرت کی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2019ء میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس اور چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ حال ہی میں یوکرینی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔