سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن گاکا نے ایک اہم نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے مملکت کے تمام ہوائی اڈوں پر فعال کمرشل اور پرائیویٹ ایئر لائنز کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں। سرکلر کے تحت تمام ایئر لائنز پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پرواز سے قبل مسافروں کی تمام درکار سفری دستاویزات کی صد فیصد تصدیق ہر صورت یقینی بنائیں۔
خلیجی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گاکا نے واضح کیا ہے کہ ایئر کیریئرز مسافروں کی سعودی عرب میں آمد، روانگی، حتمی منزل، اور ٹرانزٹ والے تمام ممالک کی جدید ترین سفری شرائط و ضوابط کی مکمل چھان بین کریں۔ ایئر لائنز کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ قواعد و ضوابط سے متعلق معلومات محض مستند سرکاری ذرائع یا بااختیار منظور شدہ انتظامی قواعد سے حاصل کی جائیں۔
اس کے علاوہ، تمام ایئر لائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بورڈنگ پوائنٹس پر ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں تاکہ بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے والے ہر مسافر کی قانونی و سفری دستاویزات کی مکمل جانچ ہو سکے۔ سعودی اتھارٹی نے تمام ایئر لائنز کو خبردار کیا ہے کہ گاکا کی جاری کردہ تمام ہدایات، احکامات اور سرکلرز کی مکمل اور بلا تاخیر پاسداری کی جائے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ورزی پر سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومتِ پاکستان نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 77 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 20 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کے نئے نرخ 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیے گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ ایک روز کے لیے طے کی گئی ہیں۔
دوسری جانب عالمی کموڈٹی مارکیٹ میں پیر کے روز ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا، جہاں امریکی خام تیل کے ستمبر کی ترسیل کے معاہدے 0.62 ڈالر کی کمی کے ساتھ 81.78 ڈالر فی بیرل اور برینٹ کروڈ کے اکتوبر کے معاہدے 0.17 ڈالر کی کمی کے بعد 88.35 ڈالر فی بیرل پر طے پائے۔
اس کے برعکس عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ سونے کی فی اونس قیمت 16.20 ڈالر کے اضافے سے 4,453.50 ڈالر جبکہ چاندی کی قیمت 0.68 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 65.79 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی۔ زرعی اجناس کی بات کی جائے تو گندم کی قیمت میں 1.50 ڈالر فی بشل کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا سودا 688 ڈالر فی بشل پر ہوا، جبکہ مکئی کے دسمبر کے معاہدے 1.25 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 484.50 ڈالر فی بشل پر بند ہوئے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے فرنٹ لائن سٹاف، بالخصوص گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے ایک اور اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی کے بعد اب خانیوال میں بھی ریلوے گارڈز اور ڈرائیورز کے لیے جدید ترین سہولیات سے آراستہ “رننگ رومز” کی جامع اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپنے بنیادی فیلڈ سٹاف کے لیے اتنی وسیع اور جدید سطح پر ورکنگ کنڈیشنز اور رہائشی سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے۔ خانیوال میں اپ گریڈ کیے گئے ان نئے رننگ رومز کا باضابطہ افتتاح 22 اگست کو کیا جائے گا۔
وزارتِ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر محکمے کے فرنٹ لائن ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے محنتی اور جفاکش ملازمین کو بہترین، آرام دہ اور باوقار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی تناؤ کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026ء کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مجموعی ترسیلاتِ زر بڑھ کر 13.647 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو جون 2026ء کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی 2026ء کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 282 ملین ڈالر بھیجے، جبکہ جون میں 306 ملین ڈالر اور مئی 2026ء میں 312 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد جولائی میں 10 ہزار 589 کے اضافے سے 9 لاکھ 56 ہزار 790 ہو گئی ہے، جبکہ جون میں یہ تعداد 9 لاکھ 46 ہزار 201 ریکارڈ کی گئی تھی۔
جولائی کے اختتام تک تارکینِ وطن نے مختلف مالیاتی اسکیموں میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 684 ملین ڈالر، نیا پاکستان اسلامی سرٹیفکیٹس میں 1316 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ میں 151 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں براہِ راست بینکاری، رقوم کی منتقلی اور مختلف شعبوں میں محفوظ سرمایہ کاری کے لیے جدید اور آسان سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔
وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔
پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔
عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔
حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
عالمی ہوابازی اور فضائی سفر کی صنعت میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں مکمل طور پر بیٹری اور بجلی سے چلنے والے دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے امریکی ریاست نیویارک کے ایک اہم ہوائی اڈے سے اپنی پہلی اور کامياب آزمائشی پرواز کا کامیاب مظاہرہ مکمل کیا ہے۔ اس تاریخی اور حیرت انگیز پرواز کا سب سے منفرد اور دلچسپ پہلو اس میں استعمال ہونے والا ایندھن اور اس کا کل مالیاتی خرچ تھا، جو محض ایک عام کافی کے کپ کی قیمت کے برابر رہا۔
بین الاقوامیذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹس کے مطابق امریکی خلائی اور ایوی ایشن صنعت کی نامور اور جدید ترین کمپنی “ہارٹ ایئرواسپیس” نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے خصوصی طور پر تیار کردہ تجرباتی ماڈل “ایکس ون” نے نیویارک کے پلیٹس برگ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قائم فلائٹ ٹیسٹ بیس سے کامیابی کے ساتھ پرواز کی اور اپنے آزمائشی مراحل کو کامیابی سے مکمل کیا۔ کل 27 منٹ کے اس تاریخی اور یادگار فضائی سفر کے دوران طیارے نے فضا میں 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی، جبکہ اس دوران طیارے کے اندر نصب طاقتور برقی پروپلشن سسٹم نے ایک میگاواٹ سے بھی زائد کی زبردست پاور مسلسل فراہم کی۔
اس پوری پرواز کی سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ یہ سفر مکمل طور پر جہاز میں نصب بیٹری سسٹم سے حاصل شدہ توانائی پر طے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس پورے 27 منٹ کے سفر میں مجموعی طور پر محض 5 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی روپوں میں تقریباً چودہ سو روپے کے برابر کی برقی توانائی استعمال ہوئی۔ یہ خرچ عالمی سطح پر معروف برانڈ اسٹار بکس کے ایک کپ کافی (وینٹی کیپوچینو) کی عام قیمت کے بالکل برابر بنتا ہے۔ اس کامیاب آزمائش کے بعد ہوابازی کے ماہرین اور دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں خوشی اور حیرت کا عنصر پایا جا رہا ہے۔
کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈرس فورسلنڈ نے اس شاندار اور تاریخی پیشرفت پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طیارے کی پہلی کامیاب پرواز کے ساتھ ہی ہم نے عالمی سطح پر تجارتی اور مسافر بردار پیمانے پر برقی پرواز کا عملی اور کامیاب تجربہ کر کے دکھا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بیٹری اور بجلی کی قوت سے چلنے والے تجارتی مسافر طیارے آنے والے دور میں ایئر لائنز کی معاشی صورتحال کو بنیادی اور انقلابی بنیادوں پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس جدت کی بدولت مسافروں کے لیے بھی ہوائی سفر کے مجموعی اخراجات میں نمایاں اور ریکارڈ حد تک کمی لائی جا سکے گی۔
تکنیکی ساخت اور بناوٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہارٹ ایکس ون طیارہ 76 فٹ یعنی تقریباً 23 میٹر لمبا ہے، جبکہ اس کے پروں کا مجموعی پھیلاؤ 106 فٹ یعنی تقریباً 32 میٹر بنتا ہے۔ پرواز بھرنے کے وقت اس بھاری بھرکم طیارے کا کل وزن 25 ہزار پاؤنڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ انسانی تاریخ میں فضا میں بلند ہونے والا سب سے بڑا بیٹری برقی طیارہ بن چکا ہے۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر کمپنی کے آئندہ آنے والے کمرشل اور تجارتی طیارے “ای ایس تھرٹی” کا ایک مکمل ماڈل ہے، جس کا مقصد برقی نظام، ایرو ڈائنامکس اور دورانِ پرواز کارکردگی کا عملی اور تجربی معائنہ کرنا ہے۔
کمپنی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ 30 نشستوں کی صلاحیت پر مشتمل یہ جدید تجارتی طیارہ سال 2031ء تک بین الاقوامی اور مقامی مسافر بردار سروس میں باقاعدہ طور پر شامل ہو جائے گا۔ ارزاں اور سستی توانائی سمیت انتہائی کم دیکھ بھال اور مرمتی اخراجات کی بدولت یہ طیارہ روایتی علاقائی اور مختصر پروازوں کے ماہانہ آپریشنل اخراجات میں 40 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی لائے گا۔
عالمی ہوابازی کے شعبے سے وابستہ یونائیٹڈ ایئرلائنز، ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس جیسی عالمی درجے کی بڑی اور معروف ایئرلائنز اس انقلابی الیکٹرک طیارے کو خریدنے اور اپنی فضائی خطوط میں شامل کرنے کے لیے خریداروں کی فہرست میں سب سے پہلے پیش پیش ہو چکی ہیں۔ تکنیکی صلاحیتوں کی بات کی جائے تو یہ طیارہ صرف بیٹری موڈ پر 200 کلومیٹر اور ہائبرڈ یعنی مخلوط موڈ پر 800 کلومیٹر تک کا لمبا سفر طے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھے گا، جبکہ اس کی فاسٹ چارجنگ کا کل وقت بھی محض 30 منٹ کے قریب ہوگا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور مسلسل پانچویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں چکوال، راولپنڈی، راجن پور، فیصل آباد، مری اور اٹک میں واٹر سپلائی اور پائپ لائن منصوبوں کے جائزہ کے ساتھ ساتھ ترجیحی بنیادوں پر مختلف سفارشات کی منظوری دی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ نے چکوال کے شدید قلت کے شکار 8 دیہات سمیت راجن پور، جام پور، ڈاجل اور فیصل آباد کے مضافات میں پائلٹ واٹر پروجیکٹس شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں راجن پور میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 21 واٹر باؤزرز فراہم کرنے اور مری میں واٹر ٹینکس کے ساتھ پانی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی سخت ہدایت کی گئی۔ واٹر اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں 252، اٹک میں 399، راجن پور میں 191، مری میں 90 اور چکوال میں 237 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ جن علاقوں میں شہریوں کو سروں اور کندھوں پر پانی اٹھا کر لانا پڑتا ہے، وہ حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور عوام کو ان کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی تک حکومت آرام سے نہیں بیٹھے گی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے یومِ آزادی کے موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو، وہاں کی حکومت اور عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے تبریکی خط میں کہا کہ یہ تاریخی دن انڈونیشیا کے عوام کے عزم، ہمت اور آزادی کے لیے ان کے بانی رہنماؤں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد، ایک جیسے مذہبی اقدار اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر تعاون پر مبنی گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ انڈونیشیائی صدر پرابوو سبیانتو کے گزشتہ سال کے دورۂ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والا یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، اور انہوں نے انڈونیشیا کے عوام کی مزید ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے متعدد علاقوں میں رات کے وقت شدید غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق اقبال ٹاؤن، سبزہ زار، جوہر ٹاؤن، سمن آباد، ملتان روڈ، ہربنس پورہ اور مزنگ جیسے گنجان آباد علاقوں میں دن کے وقت نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی سولر توانائ کی وجہ سے سپلائی معمول کے مطابق رہتی ہے، تاہم رات کے وقت سولر پینلز کا نظام بند ہوتے ہی لیسکو اپنے “کمپنی نقصانات” پورا کرنے کے لیے غیر اعلانیہ بجلی کی بندش شروع کر دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فکس چارجز، ٹیکسز اور مختلف سرچارجز میں کئی سو فیصد اضافے کے باوجود لیسکو کے خسارے کا ختم نہ ہونا انتظامی نااہلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاور ڈویژن اور پی پی آئی بی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے، مگر لیسکو اور دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وصولیوں کے باوجود کم بجلی خرید رہی ہیں تاکہ اپنے مالی اہداف اور افسران کے شاہانہ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو بورڈ اور اعلیٰ حکام کے نان پروڈکٹیو (غیر پیداواری) اخراجات ماہانہ کروڑوں روپے تک جا پہنچے ہیں، جبکہ دوسری جانب فیلڈ میں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
دوسری جانب بجلی صارفین نے حکومت اور پاور کمپنیوں کے رویے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں جن کا بل 10 ہزار روپے آتا تھا، اتنے ہی یونٹس کا بل اب 50 ہزار روپے سے تجاویز کر چکا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجلی کے جھٹکوں اور کم وولٹیج کی وجہ سے شہریوں کے اربوں روپے کے الیکٹرانک آلات کو پہنچنے والے نقصان کا حساب لینے کا بھی ایک طریقہ کار وضع کرے اور لیسکو کے شاہانہ اخراجات ختم کر کے صارفین کو بلوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناشک کے علاقے ڈوما کے ایک سرکاری بورڈنگ سکول میں مبینہ طور پر “آسیب کا سایہ” اور مافوق الفطرت واقعات کی افواہوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سکول میں زیرِ تعلیم 810 طلبہ و طالبات میں سے تقریباً 600 طلبہ نے ہاسٹل چھوڑ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کا آغاز جولائی کے آخر میں اس وقت ہوا جب چار طالبات اچانک بے قابو ہو کر رونے اور بعد میں غیر معمولی طور پر ہنسنے لگیں، جبکہ کچھ بچوں نے پازیب کی آوازیں سننے کا دعویٰ بھی کیا۔
واقعے کے بعد پھیلنے والے خوف اور توہم پرستی کے باعث گاؤں کے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ سکول کی تعمیر کے دوران ایک مہوا کے درخت کی کٹائی سے ارواح ناراض ہوئی ہیں، جبکہ کچھ نے اسے مقامی دیوتا کی ناراضگی سے جوڑا۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت اور ماہرینِ نفسیات نے ہاسٹل اور سکول کا دورہ کرنے کے بعد کسی بھی قسم کے مافوق الفطرت عنصر کو مسترد کر دیا ہے۔ معالجین کا کہنا ہے کہ یہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف سے پیدا ہونے والی “ماسریا ہسٹیریا” کی ایک کیفیت ہے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر سنجے چوہدری کے مطابق بچوں کی مسلسل کونسلنگ کی جا رہی ہے اور چند طلبہ واپس لوٹ آئے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے سائنسی حل کے ساتھ ساتھ پنڈتوں اور پجاریوں کو ہاسٹل بلانے پر میڈیا کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار فوری طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ قدم جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں عدم تعاون اور مدد سے انکار کے بعد اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریزاں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا۔ چونکہ اس وقت مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے حجم اور دائرہ کار میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کورین صدر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے حصہ لینا تھا، جس پر شمالی کوریا نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذیلی ادارے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (این اے ایچ ای) نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں یورپی زبانیں پڑھانے والے تمام اساتذہ کو قومی فیکلٹی رجسٹر میں فوری رجسٹریشن کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق اس قومی رجسٹر کی تشکیل کا بنیادی مقصد ملک میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور دیگر اہم یورپی زبانوں کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، وسائل کے باہمی اشتراک اور مستقبل میں یورپی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے مواقع کو مزید فروغ دینا ہے۔
ایچ ای سی نے تمام متعلقہ فیکلٹی ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کوائف اس قومی ڈیٹا بیس کا حصہ بنائیں۔ تمام اہل اور دلچسپی رکھنے والے اساتذہ اپنی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ایچ ای سی رجسٹریشن فارم پر اپنے معلومات جمع کرا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے اور موٹروے پولیس کی جانب سے کسی بھی گاڑی کا ناجائز چالان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کی خوشی میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک پروقار استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر کا ٹرانسپورٹرز کیمپ پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، نعرے بازی کی گئی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفاقی وزیر کو روایتی سندھی اجرک پہنائی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایکسل لوڈ پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، مقررہ حد سے زیادہ وزن لادنے سے گاڑیوں اور سڑکوں دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اس معاملے کے حل کے لیے قائم کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا، اور مسلسل نو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مسائل کو باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہوں پر واقع “ویٹ سٹیشنز” کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کی شکایات کا فوری خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ موٹروے پولیس کے ذریعے ڈرائیورز کے لائسنس کے اجرا کا بھی مناسب بندوبست کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کو شاہراہوں کا باقاعدگی سے دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے زیادہ دوستانہ بنایا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے مطالبات کی منظوری پر وفاقی حکومت اور عبدالعلیم خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اویس چوہدری ایڈووکیٹ، امداد حسین نقوی، چوہدری قمر الزمان گل، اظہر سراج، رؤف خان بالا، ملک شیر خان اور ملک حاجی فرید سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے حالیہ بلاگ میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحول دوست و شفاف توانائی کی طرف منتقلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی وسعت اور دفاعی صلاحیتوں کی ازسرِ نو ترتیب کے باعث عالمی سطح پر معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت میں ایک بار پھر بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اہم اور نایاب معدنیات پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار نے عالمی سیاسی اور معاشی تناظر میں نئی جیو پولیٹیکل فالٹ لائنز کو جنم دیا ہے۔
بلاگ کے متن کے مطابق لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر نایاب زمینوں سے حاصل ہونے والی معدنیات آج عالمی معیشت میں بالکل وہی کلیدی اور اسٹریٹجک مقام حاصل کر چکی ہیں جو ماضی میں خام تیل، کوئلہ اور سٹیل وغیرہ کو حاصل تھا۔ آئی ایم ایف نے مزید نشاندہی کی کہ بین الاقوامی سطح پر برآمدات پر پابندیاں، تجارتی کنٹرول اور دیگر جیو پولیٹیکل رکاوٹیں اس شعبے کو شدید متأثر کر رہی ہیں۔ مالیاتی ادارے کے مطابق یہی اہم معدنیات مستقبل میں دنیا کی اقتصادی، صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور عسکری طاقت کے نئے معیار طے کریں گی۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بالخصوص دی گئی ہدایت پر ایڈیشنل ڈی جی آپریشنز اسد اللہ کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مانگا روڈ اور 45 کلومیٹر ملتان روڈ پر واقع تین معروف میٹ اور آئل فیکٹریوں پر اچانک چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں اور صفائی کے ناقص انتظامات پر مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائی کے دوران انتہائی ناقص انتظامات اور ایکسپائر اشیاء پر مشتمل پولٹری پروسیسنگ فروزن میٹ فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا، جبکہ 2 ہزار کلوگرام گلا سڑا اور ناقص گوشت موقع پر تلف کر دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک معروف برانڈ کے میٹ یونٹ سے پرانا ایکسپائر گوشت برآمد ہوا جسے دوبارہ پیک کر کے مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا منصوبہ تھا، جب کہ فیکٹری میں ٹریسیبیلٹی ریکارڈ اور حشرات کی روک تھام کے کوئی اقدامات موجود نہیں تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کسی بھی شکایت پر فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر فوری رابطہ کریں۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے چناب میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا آنے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور نجی نیوز چینلز پر گردش کرنے والی تمام خبروں کی باقاعدہ تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق اس قسم کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت فی الوقت مکمل طور پر نارمل ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے واضح کیا کہ ادارہ، محکمہ آبپاشی، فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن اور ارسا کے ساتھ چوبیس گھنٹے مکمل رابطے میں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر تمام دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی مسلسل ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دریائے چناب میں اس وقت پانی کا بہاؤ محض 61 ہزار کیوسک ہے جو بالکل نارمل سطح پر ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ممکنہ سیلابی خطرے کی صورت میں انتظامیہ اور شہریوں کو وقت سے پہلے الرٹ جاری کیا جائے گا۔
پاک ڈیٹا کام کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی 400 سے زائد برانچز کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنی ‘یحسات’ پر منتقل کیے جانے کے بعد قومی سلامتی کے تناظر میں شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ پاک ڈیٹا کام کے سابق سی ای او بریگیڈیئر (ر) سید ذوالفقار علی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (آئی ٹی) کو ایک اہم اور تفصیلی خط تحریر کر دیا ہے جس میں اس منتقلی کو ملکی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق نیشنل بینک تمام اہم حکومتی اور حساس مالیاتی اکاؤنٹس کا تحفظ کرتا ہے، اس لیے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا غیر ملکی کنٹرول میں جانا قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک ڈیٹا کام گزشتہ 5 سال سے نیشنل بینک کو پاک سیٹ سیٹلائٹ کے ذریعے بیک اپ کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا تھا جس کے وی ایس اے ٹی ہبز کراچی اور اسلام آباد میں قائم تھے۔ تاہم اب منتقلی کے بعد یحسات کا سیٹلائٹ اور مین ہب دونوں یو اے ای میں واقع ہیں، جو موجودہ علاقائی صورتحال میں حساس ترین ڈیٹا کی حفاظت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
سابق سی ای او نے اپنے خط میں ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ نیشنل بینک کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کو بلا تاخیر دوبارہ قومی سیٹلائٹ ‘پاک سیٹ’ پر منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے او جی ڈی سی ایل اور اے جی پی آر کے اہم نیٹ ورکس کو بھی پاک سیٹ پر شفٹ کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ ان تمام اہم قومی اداروں کے لیے ایک مخصوص اور محفوظ ملکی سیٹلائٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے اور پاک ڈیٹا کام کے کراچی مرکز میں مستقل سیٹلائٹ ہبز کا قیام عمل میں لایا جائے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ریسرچ اینڈ انٹرپرائز، ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس، اور اکیڈمکس کے تین نائب صدور (نائب صدرین) کی تعیناتیوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس ایاز شوکت نے شہری جاوید اختر کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل آکاش تارا عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ واضح احکامات کے مطابق اسلامی یونیورسٹی تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں شفاف اور اوپن میرٹ پر کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قانونی عمل اور کھلے مقابلے (اوپن میرٹ) کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی اندرونی فیکلٹی ممبران میں سے من پسند پروسیجر کے تحت تعیناتیاں کر ڈالیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے قانونی باریکیوں پر نکتہ اٹھاتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ بات بھی قانون کے مطابق جانچ لی جائے کہ آیا یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز (BoG) نے اپنا باقاعدہ اختیار تعیناتی کمیٹی کو تفویض کیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو آئندہ دو ہفتوں میں قانونی موقف اور تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔